(۳۸۲۴۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : أَشْرَفَ عَلَیْہِمْ عُثْمَانُ مِنَ الْقَصْرِ، فَقَالَ : ائْتُونِی بِرَجُلٍ أُتَالِیہِ کِتَابَ اللہِ ، فَأَتَوْہُ بِصَعْصَعَۃَ بْنِ صُوحَانَ ، وَکَانَ شَابًّا ، فَقَالَ : أَمَا وَجَدْتُمْ أَحَدًا تَأْتُونِی بِہِ غَیْرَ ہَذَا الشَّابِّ ، قَالَ : فَتَکَلَّمَ صَعْصَعَۃُ بِکَلاَمٍ ، فَقَالَ لَہُ عُثْمَان : اُتْلُ ، فَقَالَ : {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} فَقَالَ : کَذَبْتَ ، لَیْسَتْ لَک ، وَلاَ لأَصْحَابِکَ ، وَلَکِنَّہَا لِی وَلأَصْحَابِی ، ثُمَّ تَلاَ عُثْمَان : {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حَتَّی بَلَغَ : {وَإِلَی اللہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ}۔
(٣٨٢٤٧) حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے گھر سے باغیوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا ۔ تم میرے پاس کوئی آدمی لاؤ جس سے میں اللہ کی کتاب پڑھواؤں۔ پس باغی صعصعہ بن صوحان کو لے آئے۔ یہ ایک جوان آدمی تھا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ کیا تم نے اس نوجوان کے علاوہ کوئی آدمی نہیں پایا جس کو تم میرے پاس لائے ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر صعصعہ نے کوئی گفتگو کی۔ تو حضرت عثمان نے اس سے کہا۔ قرآن پڑھ۔ اس نے پڑھا۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے فرمایا۔ تو جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ آیت تیرے اور تیرے ساتھیوں کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ آیت تو میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے ہے۔ پھر حضرت عثمان نے تلاوت کی۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے یہاں تک پڑھا۔ { وَإِلَی اللہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ }۔