(۳۸۲۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، قَالَ : کَانَ الْحَادِی یَحْدُو بِعُثْمَانَ وَہُوَ یَقُولُ :
إِنَّ الأَمِیرَ بَعْدَہُ عَلِیٌّ وَفِی الزُّبَیْرِ خَلَفٌ رَضِیٌّ
قالَ : فَقَالَ کَعْبٌ : وَلَکِنَّہُ صَاحِبُ الْبَغْلَۃِ الشَّہْبَائِ ، یَعَنْی مُعَاوِیَۃَ ، فَقِیلَ لِمُعَاوِیَۃَ : إِنَّ کَعْبًا یَسْخَرُ بِکَ ، وَیَزْعُمُ أَنَّک تَلِی ہَذَا الأَمْرَ ، قَالَ : فَأَتَاہُ ، فَقَالَ : یَا أَبَا إِسْحَاقَ ، کَیْفَ وَہَا ہُنَا عَلِیٌّ ، وَالزُّبَیْرُ ، وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَنْتَ صَاحِبُہَا۔
(٣٨٢٤٨) حضرت ابو صالح سے روایت ہے کہ ایک حدی خوان حضرت عثمان کے لیے حدی پڑھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔
” یقیناً عثمان کے بعد حضرت علی امیر ہیں اور زبیر میں پسندیدہ خلافت ہے۔ “
راوی کہتے ہیں۔ حضرت کعب نے کہا۔ لیکن وہ جو بھورے رنگ کے خچر والے معاویہ ہیں۔ پس حضرت معاویہ سے کہا گیا کہ حضرت کعب آپ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ آپ اس امر خلافت کے ولی بنیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر یہ حضرت معاویہ کے پاس آئے تو معاویہ نے کہا۔ اے ابو اسحاق ! یہ بات تم نے کیسے کہی جبکہ حضرت علی اور زبیر اور دیگر اصحابِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں۔ کعب نے کہا۔ آپ ہی اس خلافت کے حق دار ہیں۔