hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38256

.

ابن أبي شيبة

38256
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۲۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو الأَنْصَارِیِّ، قَالَ: وَعَدَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصْلَ الْعَقَبَۃِ یَوْمَ الأَضْحَی ، وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلاً، قَالَ عُقْبَۃُ: إِنِّی مِنْ أَصْغَرِہِمْ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَوْجِزُوا فِی الْخُطْبَۃِ ، فَإِنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمْ کُفَّارَ قُرَیْشٍ، قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللہِ ، سَلْنَا لِرَبِّکَ ، وَسَلْنَا لِنَفْسِکَ ، وَسَلْنَا لأَصْحَابِکَ ، وَأَخْبِرْنَا مَا الثَّوَابُ عَلَی اللہِ وَعَلَیْک۔ فَقَالَ : أَسْأَلُکُمْ لِرَبِّی أَنْ تُؤْمِنُوا بِہِ ، وَلاَ تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا ، وَأَسْأَلُکُمْ لِنَفْسِی أَنْ تُطِیعُونِی ، أَہْدِیَکُمْ سَبِیلَ الرَّشَاد ، وَأَسْأَلُکُمْ لِی وَلأَصْحَابِی أَنْ تُوَاسُونَا فِی ذَاتِ أَیْدِیکُمْ ، وَأَنْ تَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِکَ فَلَکُمْ عَلَی اللہِ الْجَنَّۃُ وَعَلَیَّ ، قَالَ : فَمَدَدْنَا أَیْدِیَنَا فَبَایَعْنَاہُ۔ (احمد ۱۲۰۔ حمید ۲۳۸)
(٣٨٢٥٧) حضرت عقبہ بن عمرو انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم الاضحی کو گھاٹی کی جڑ میں ہم لوگوں سے وعدہ لیا اور ہم لوگ ستر کی تعداد میں تھے ۔۔۔ حضرت عقبہ کہتے ہیں۔ میں ان میں سب سے چھوٹا تھا ۔۔۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔ ” گفتگو مختصر کرو کیونکہ مجھے تم پر قریش کے کفار کا ڈر ہے۔ “ راوی کہتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ہم سے اپنے رب کے بارے میں سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے بارے میں کوئی سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ سوال کریں اور ہمں ب بھی بتادیں کہ اللہ پر اور آپ پر (ہمارے لئے) کیا ثواب دینا لازم ہوگا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں اپنے رب کے بارے میں تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور میں تم سے اپنے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم میری بات مانو میں تمہیں راہ ہدایت کی جانب راہ نمائی کروں گا۔ اور میں تم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے مال میں ہمدردی کرو اور یہ کہ تم ہم سے ان چیزوں کو روکو جن کو تم خود سے روکتے ہو۔ پس جب تم لوگ یہ کچھ کرو گے تو پھر تمہارے لیے اللہ پر اور مجھ پر جنت واجب ہے۔ “ راوی کہتے ہیں پس ہم نے اپنے ہاتھ دراز کیے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی۔