(۳۸۲۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : انْطَلَقَ الْعَبَّاسُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : تَکَلَّمُوا وَلاَ تُطِیلُوا الْخُطْبَۃَ ، إِنَّ عَلَیْکُمْ عُیُونًا ، وَإِنِّی أَخْشَی عَلَیْکُمْ کُفَّارَ قُرَیْشٍ ، فَتَکَلَّمَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُکَنَّی : أَبَا أُمَامَۃَ ، وَکَانَ خَطِیبَہُمْ یَوْمَئِذٍ ، وَہُوَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ ، فَقَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سَلْنَا لِرَبِّکَ ، وَسَلْنَا لِنَفْسِکَ ، وَسَلْنَا لأَصْحَابِکَ ، وَمَا الثَّوَابُ عَلَی ذَلِکَ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَسْأَلُکُمْ لِرَبِّی أَنْ تَعْبُدُوہُ ، وَلاَ تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا ، وَلِنَفْسِی أَنْ تُؤْمِنُوا بِی وَتَمْنَعُونِی مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ وَأَبْنَائَکُمْ ، وَلأَصْحَابِی الْمُوَاسَاۃَ فِی ذَاتِ أَیْدِیکُمْ ، قَالَوا : فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِکَ ؟ قَالَ : لَکُمْ عَلَی اللہِ الْجَنَّۃُ۔ (احمد ۱۱۹۔ ابن سعد ۹)
(٣٨٢٥٨) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت عباس ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ انصار کی طرف چل کر آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” بات کرو لیکن گفتگو لمبی نہ کرنا۔ تم پر جاسوس متعین ہیں اور مجھے تمہارے بارے میں قریش کے کفار سے خوف ہے “ پس ان میں سے ایک آدمی ۔۔۔ جس کی کنیت ابو امامہ تھی ۔۔۔ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ آپ ہم سے اپنے رب کے لیے سوال کریں، آپ ہم سے اپنے لیے سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے لیے سوال کریں۔ اور (یہ بتائیں کہ) اس پر کیا ثواب ملے گا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” میں تم سے اپنے رب کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور اپنے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور مجھ سے ان چیزوں کو روکو جن چیزوں کو تم اپنے اور اپنے بیٹوں سے روکتے ہو۔ اور اپنے ساتھیوں کے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے اموال میں ہمدردی کرو “ انصار نے پوچھا۔ جب ہم یہ سب کچھ کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ تمہارے لیے اللہ پر جنت واجب ہے۔