(۳۸۲۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، قَالَ : قَالَ حُمَیْدٌ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّیْثِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الیشکری ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُہُ النَّاسُ عَنِ الْخَیْرِ ، وَکُنْت أَسْأَلُہُ عَنِ الشَّرِ ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْخَیْرَ لَنْ یَسْبِقَنِی ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ قَالَ : یَا حُذَیْفَۃُ ، تَعَلَّمْ کِتَابَ اللہِ وَاتَّبِعْ مَا فِیہِ ، ثَلاَثًا ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الْخَیْرِ شَرُّ ؟ قَالَ : فِتْنَۃٌ وَشَرٌّ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الشَّرِّ خَیْرٌ ؟ قَالَ : یَا حُذَیْفَۃُ ، تَعَلَّمْ کِتَابَ اللہِ وَاتَّبِعْ مَا فِیہِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الْخَیْرِ شَرُّ ؟ قَالَ : فِتْنَۃٌ عَمْیَائُ صَمَّائُ عَلَیْہَا دُعَاۃٌ عَلَی أَبْوَابِ النَّارِ ، فَأَنْ تَمُوتَ یَا حُذَیْفَۃُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَی جَِذْلٍ ، خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْہُمْ۔ (ابوداؤد ۴۲۴۳۔ احمد ۳۸۶)
(٣٨٢٦٩) حضرت یشکری فرماتے ہیں میں نے حضرت حذیفہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ سے برائی کے بارے میں پوچھتا تھا اور میں پہچان چکا تھا کہ خیر مجھ سے ہرگز نہیں بڑھے گی راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حذیفہ اللہ کی کتاب سیکھو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو تین مرتبہ (فرمایا) راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس برائی کے بعد بھلائی ہوگی ارشاد فرمایا اے حذیفہ اللہ کی کتاب سیکھو اور جو اس میں ہے اس کی پیروی کرو تین مرتبہ فرمایا میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی ارشاد فرمایا : اندھا اور بہرا فتنہ ہوگا اس پر قائم ہوں گے جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دینے والے اے حذیفہ اگر تمہیں موت آئے اس حال میں کہ تم درخت کے تنے کو کھانے والے ہو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔