(۳۸۲۷۰) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عِکْرِمَۃُ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذْ ذَکَرَ الْفِتْنَۃَ ، أَوْ ذُکِرَتْ عِنْدَہُ ، قَالَ : فَقَالَ : إِذَا رَأَیْت النَّاسَ مَرَجَتْ عُہُودُہُمْ وَخَفَّتْ أَمَانَاتُہُمْ ، وَکَانُوا ہَکَذَا وَشَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ ، قَالَ : فَقُمْت إلَیْہِ ، فَقُلْتُ : کَیْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِکَ جَعَلَنِی اللَّہُ فِدَائَک ، قَالَ : فَقَالَ لِی : الْزَمْ بَیْتَکَ ، وَأَمْسِکْ عَلَیْک لِسَانَک ، وَخُذْ بِمَا تَعْرِفُ ، وَذَرْ مَا تُنْکِرُ ، وَعَلَیْک بِخَاصَّۃِ نَفْسِکَ ، وَذَرْ عَنْک أَمْرَ الْعَامَّۃِ۔ (ابوداؤد ۴۲۴۵۔ احمد ۲۱۲)
(٣٨٢٧٠) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد تھے جب آپ نے فتنے کا تذکرہ کیا یا آپ کے پاس اس کا تذکرہ کیا گیا۔ فرماتے ہیں آپ نے فرمایا : جب تو لوگوں کو دیکھے کہ ان کے وعدے خراب ہوجائیں اور امانتیں ہلکی ہوجائیں اور وہ ہوجائیں اس طرح اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا، راوی فرماتے ہیں میں آپ کی طرف کھڑا ہوا میں نے عرض کیا اس وقت میں کیسے کروں اللہ مجھے آپ پر قربان کرے فرماتے ہیں مجھ سے آپ نے ارشاد فرمایا : اپنے گھر کو لازم پکڑنا اور اپنی زبان کو روک کر رکھنا جو جانتے ہو وہ لے لینا اور جو نہیں جانتے وہ چھوڑ دینا اور تم پر لازم ہے خاص طور پر تمہاری ذات اور عامۃ الناس کے معاملے کو چھوڑ دینا۔