(۳۸۲۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ کُرْزِ بْنِ عَلْقَمَۃَ الْخُزَاعِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ لِلإِسْلاَمِ مُنْتَہًی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَیُّمَا أَہْلِ بَیْتٍ مِنَ الْعَرَبِ ، أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّہُ بِہِمْ خَیْرًا أَدْخَلَ عَلَیْہِمُ الإِسْلاَمَ ، قَالَ : ثُمَّ مَہْ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْفِتَنُ تَقَعُ کَالظُّلَلِ تَعُودُونَ فِیہَا أَسَاوِدَ صُبًّا ، یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، وَالأَسْوَدُ : الْحَیَّۃُ تَرْتَفِعُ ، ثُمَّ تَنْصَبُّ۔ (احمد ۴۷۷۔ طبرانی ۴۴۲)
(٣٨٢٨١) حضرت کرزبن علقمہ الخزاعی فرماتے ہیں ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا اسلام کے لیے انتہاء ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں کوئی بھی عرب یا عجم میں سے گھر والے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرمائیں گے ان پر اسلام کو داخل کردیں گے، انھوں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا ارشاد فرمایا : پھر فتنے ہوں گے جو بادلوں کی طرح وقوع پذیر ہوں گے تم ان میں ڈسنے والے ناگ بن کر لوٹو گے ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے، کالا سانپ سر اٹھاتا ہے پھر ڈسنے کے لیے (شکار) پر گرتا ہے۔