(۳۸۲۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : وُکِّلَتِ الْفِتْنَۃُ بِثَلاَثَۃٍ : بِالْجَادِّ النِّحْرِیرِ الَّذِی لاَ یُرِیدُ أَنْ یَرْتَفِعَ لَہُ شیء إِلاَّ قَمَعَہُ بِالسَّیْفِ ، وَبِالْخَطِیبِ الَّذِی یَدْعُو إلَیْہِ الأُمُورَ ، وَبِالشَّرِیفِ الْمَذْکُورِ ، فَأَمَّا الْجَادُّ النِّحْرِیرُ فَتَصْرَعُہُ ، وَأَمَّا ہَذَانِ فَتَبْحَثُہُمَا فَتَبْلُو مَا عِنْدَہُمَا۔
(٣٨٢٩٠) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں فتنہ تین آدمیوں کی وجہ سے قائم ہوگا ایک تو محنتی صاحب بصیرت آدمی جب بھی اس کے سامنے کوئی چیز بلند ہوتی ہے تو وہ اسے تلوار سے ختم کردیتا ہے اور وہ خطیب جس کی طرف تمام امور دعوت دیتے ہیں اور مذکورہ شریف باقی وہ محنتی صاحب بصر ت اس فتنے کو پچھاڑ دیتا ہے اور باقی یہ دو فتنہ ان کو تلاش کرتا ہے اور جو ان کے پاس ہوتا ہے اسے پرانا کردیتا ہے۔