(۳۸۴۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ بن أبی حازم عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : قَالَ ذُو عَمْرٍو : یَا جَرِیرُ ، إِنَّ بِکَ عَلَیَّ کَرَامَۃً وَإِنِّی مُخْبِرُک خَبَرًا إنَّکُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ ، لَنْ تَزَالُوا بِخَیْرٍ مَا کُنْتُمْ ، إِذَا ہَلَکَ أَمِیرٌ تَأَمَّرْتُمْ فِی آخَرَ ، فَإِذَا کَانَتْ بِالسَّیْفِ غَضِبْتُمْ غَضَبَ الْمُلُوکِ وَرَضِیتُمْ رِضَا الْمُلُوکِ۔
(٣٨٤١٤) حضرت جریر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت ذو عمرو نے فرمایا اے جریر آپ کو مجھ پر شرافت حاصل ہے اور میں آپ کو ایک خبر دینے والا ہوں تم اے عرب کی جماعت ! مسلسل تم خیر پر رہو گے جب تک تم ایسے رہو گے کہ جب ایک امیر فوت ہوگا تو دوسرے کو امیر بنا لو گے جب یہ امارت تلوار کے ذریعے سے حاصل ہوگی تو تم غصہ کرو گے بادشاہوں کے غصہ کی طرح اور تم راضی ہو گے بادشاہوں کے راضی ہونے کی طرح۔