(۳۸۴۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حُذَیْفَۃَ مَعَ کَعْبٍ فِی سَفِینَۃٍ ، فَقَالَ لِکَعْبٍ ذَاتَ یَوْمٍ : یَا کَعْبُ ، أَتَجِدُ ہَذِہِ فِی التَّوْرَاۃِ کَیْفَ تَجْرِی وَکَیْفَ وَکَیْفَ ؟ فَقَالَ لَہُ کَعْبٌ : لاَ تَسْخَرْ مِنَ التَّوْرَاۃِ ، فَإِنَّہَا کِتَابُ اللہِ ، وَإِنَّ مَا فِیہَا حَقٌّ ، قَالَ : فَعَادَ ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثم عَادَ ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ أَجِدُ فِیہَا ، أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ أَشَطَّ النَّابِ یَنْزُو فِی الْفِتْنَۃِ کَمَا یَنْزُو الْحِمَارُ فِی قَیْدِہِ فَاتَّقِ اللَّہَ وَلاَ تَکُنْ أَنْتَ ہُوَ قَالَ مُحَمَّدٌ : فَکَانَ ہُوَ۔
(٣٨٤٢٢) حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت محمد بن ابی حذیفہ کشتی میں حضرت کعب احبار کے ساتھ تھے حضرت محمد بن ابی حذیفہ نے حضرت کعب سے ایک دن کہا اے کعب کیا ہم اس (یعنی کشتی) کے بارے میں توراۃ کے اندر پاتے ہیں کہ کیسے چلتی ہے اور کیسے اور کیسے ؟ ان سے کعب احبار نے فرمایا تو رات کے بارے میں مذاق نہ کرو یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں جو ہے وہ حق ہے راوی کہتے ہیں حضرت محمد بن ابی حذیفہ نے دوبارہ دہرایا حضرت کعب نے اسی طرح ارشاد فرمایا پھر انھوں نے اس بات کو دہرایا حضرت کعب نے ان سے یہی فرمایا نہیں لیکن اس میں یہ پاتا ہوں کہ بلاشبہ قریش میں سے ایک آدمی ہوگا زائد نوکیلے دانت والا وہ فتنے میں ایسے کودے گاجی سے گدھا اپنی رسی میں کودتا ہے پس اللہ سے ڈر اور تو وہ آدمی نہ بن محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں وہ وہی تھے۔