(۳۸۴۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : أَیُّہَا النَّاسُ ، أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا ، قَالُوا : یَوْمٌ حَرَامٌ ، قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا ، قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ ، قَالَ : فَأَیُّ شَہْرٍ ہَذَا ، قَالُوا : شَہْرٌ حَرَامٌ ، قَالَ : فَإِنَّ أَمْوَالَکُمْ وَدِمَائَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا ، ثُمَّ أَعَادَہَا مِرَارًا ، قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ ہَلْ بَلَّغْت مِرَارًا ، قَالَ : یَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللہِ ، إِنَّہَا لَوَصِیَّتُہُ إِلَی رَبِّہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ ، لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا ، یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔ (بخاری ۱۷۳۹۔ ترمذی ۲۱۹۳)
(٣٨٤٢١) حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا اے لوگو یہ کونسا دن ہے لوگوں نے عرض کیا یوم حرام (حرمت والا دن) آپ نے پوچھا یہ کونسا شہر ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا شہر آپ نے پوچھا یہ کونسا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا مہینہ ہے آپ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ تمہارے اموال اور تمہارے خون اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں پھر اس فرمان کو کئی مرتبہ دہرایا پھر اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور ارشاد فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا یہ فرمان کئی مرتبہ دہرایا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اپنے رب سے مناجات تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : یہ پیغام حاضر غائب کو پہنچائے میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔