(۳۸۴۹۱) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یَشُدُّ عَلَیْہِمْ حَتَّی یُخْرِجَہُمْ ، عَنِ الأَبْوَابِ وَیَقُولُ :
لَوْ کَانَ قَرْنِی وَاحِدًا کُفِیْتُہ
ویقول :
وَلَسْنَا عَلَی الأَعْقَابِ تَدْمَی کُلُومُنَا
وَلَکِنْ عَلَی أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدِّمَا
(٣٨٤٩١) حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن زبیر ان پر حملہ کرتے تھے یہاں تک کہ ان کو دروازوں سے نکال دیتے تھے اور کہتے تھے اگر میرا مقابل اکیلا ہو تو میں اس کے لیے کافی ہوں اور شعر بھی پڑھتے۔ وَلَسْنَا عَلَی الأَعْقَابِ تَدْمَی کُلُومُنَا ۔۔۔ وَلَکِنْ عَلَی أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدِّمَا۔ ہماری ایڑیوں پر ہمارے زخموں کے خون نہیں گرتے بلکہ ہمارے قدموں پر خون کے قطرات گرتے ہیں (مرادیہ ہے کہ ہم دشمن کا سامنا کرتے ہوئے لڑتے ہیں پشت پھیر کر نہیں بھاگتے)