(۳۸۴۹۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو حَصِینٍ الأَسَدِیُّ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : الْزَمُوا ہَذِہِ الطَّاعَۃَ وَالْجَمَاعَۃَ ، فَإِنَّہُ حَبْلُ اللہِ الَّذِی أَمَرَ بِہِ ، وَأَنَّ مَا تَکْرَہُونَ فِی الْجَمَاعَۃِ خَیْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِی الْفُرْقَۃِ ، إِنَّ اللَّہَ لَمْ یَخْلُقْ شَیْئًا قَطُّ إِلاَّ جَعَلَ لَہُ مُنْتَہًی ، وَإِنَّ ہَذَا الدِّینَ قَدْ تَمَّ، وَإِنَّہُ صَائِرٌ إِلَی نُقْصَانٍ ، وَإِنَّ أَمَارَۃَ ذَلِکَ أَنْ تَنْقَطِعَ الأَرْحَامُ ، وَیُؤْخَذَ الْمَالُ بِغَیْرِ حَقِّہِ ، وَتُسْفَکَ الدِّمَائُ وَیَشْتَکِی ذُو الْقَرَابَۃِ قَرَابَتَہُ لاَ یَعُودُ عَلَیْہِ بِشَیْئٍ ، وَیَطُوفُ السَّائِلُ بَیْنَ جُمُعَتَیْنِ لاَ یُوضَعُ فِی یَدِہِ شَیْئٌ ، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ خَارَتِ الأَرْضُ خُوَارَ الْبَقَرَۃِ یَحْسِبُ کُلُّ أُنَاسٍ ، أَنَّہَا خَارَتْ مِنْ قِبَلِہِمْ ، فَبَیْنَمَا النَّاسُ کَذَلِکَ إذْ قَذَفَتِ الأَرْضُ بِأَفْلاَذِ کَبِدِہَا مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، لاَ یَنْفَعُ بَعْدُ شَیْئٌ مِنْہُ ذَہَبٌ وَلاَ فِضَّۃٌ۔
(٣٨٤٩٢) حضرت عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ اس اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو بلاشبہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے جس کے تھامنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور بلاشبہ جو چیزیں تمہیں جماعت میں ناپسندیدہ ہیں وہ ان سے بہتر ہیں جو تمہیں جدائی میں پسند ہیں اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی انتہا مقرر کی ہے یہ دین یقیناً کامل ہوچکا اور اب نقصان کی طرف جانے والا ہے اور اس نقصان کی علامت یہ ہے کہ رشتے داریاں ختم ہوجائیں گی ناحق مال لیا جائے گا خون بہائے جائیں گے قرابت والا اپنے قریبی رشتے داروں کی شکایت کرے گا کہ وہ اسے کچھ نہیں دیتے مانگنے والا دو جمعے چکر لگائے گا اس کے ہاتھ پر کچھ بھی نہیں رکھا جائے گا لوگ اسی حالت پر ہوں گے یکایک زمین گائے کی طرح آواز نکالے گی سارے لوگ یہ خیال کریں گے کہ یہ ہماری جانب میں آواز نکال رہی ہے لوگ اسی حالت پر ہوں گے اچانک زمین اپنے جگر کے ٹکڑے یعنی سونا اور چاندی نکالے گی اس کے بعد اس سونا چاندی سے کوئی نفع نہیں ہوگا۔