(۳۸۵۲۱) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَرْبَدَ النَّخَعِیِّ ، قَالَ : قالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ : دَخَلَ الْحُسَیْنُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسَۃٌ عَلَی الْبَابِ ، فَتَطَلَّعْت فَرَأَیْتُ فِی کَفِّ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا یُقَلِّبُہُ وَہُوَ نَائِمٌ عَلَی بَطْنِہِ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، تَطَلَّعْتُ فَرَأَیْتُکَ تُقَلِّبُ شَیْئًا فِی کَفِّکَ ، وَالصَّبِیُّ نَائِمٌ عَلَی بَطْنِکَ وَدُمُوعُکَ تَسِیلُ ، فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِیلَ أَتَانِی بِالتُّرْبَۃِ الَّتِی یُقْتَلُ عَلَیْہَا ، وَأَخْبَرَنِی أَنَّ أُمَّتِی یَقْتُلُونَہُ۔ (طبرانی ۲۸۲۰)
(٣٨٥٢١) حضرت ام سلمہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے میں دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی میں نے غور کیا اور دیکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہتھیلی میں کوئی چیز تھی جسے آپ الٹ پلٹ رہے تھے اور حضرت حسین آپ کے پیٹ پر سوئے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے غور کیا اور دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلی پر کوئی چیز الٹ پلٹ رہے ہیں اور بچہ آپ کے پیٹ پر سویا ہوا ہے اور آپ کے آنسو جاری ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ جبرائیل میرے پاس وہ مٹی لے کر آیا تھا جہاں اسے شہید کیا جائے گا اس نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت اسے قتل کرے گی۔