(۳۸۵۲۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی شُرَحْبِیلُ بْنُ مُدْرِکٍ الْجُعْفِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُجَیٍّ الْحَضْرَمِیِّ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ سَافَرَ مَعَ عَلِی ، وَکَانَ صَاحِبَ مَطْہَرَتِہِ حَتَّی حَاذَی نِینَوَی وَہُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَی صِفِّینَ فَنَادَی: صَبْرًا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، صَبْرًا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، فَقُلْتُ : مَاذَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَیْنَاہُ تَفِیضَانِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا لِعَیْنَیْک تَفِیضَانِ أَأَغْضَبَک أَحَدٌ ، قَالَ : قَامَ مِنْ عِنْدِی جِبْرِیلُ فَأَخْبَرَنِی ، أَنَّ الْحُسَیْنَ یُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ ، فَلَمْ أَمْلِکْ عَیْنَیَّ أَنْ فَاضَتَا۔ (احمد ۸۵۔ ابویعلی ۳۵۸)
(٣٨٥٢٢) حضرت نجی حضرمی سے روایت ہے فرمایا کہ انھوں نے حضرت علی کے ساتھ سفر کیا وہ حضرت علی کے لیے وضو وغیرہ کا انتظام کرنے لگے یہاں تک کہ وہ نینوی شہر کے برابر ہوگئے ارادہ ان کا صفین کی طرف جانے کا تھا تو انھوں نے پکارا ٹھہرو ابو عبداللہ ٹھہرو ابوعبداللہ میں نے کہا کیا ہوگیا ابو عبداللہ کو انھوں نے فرمایا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے حضرت علی نے بتلایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی آنکھیں بہہ رہی ہیں کیا آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جبرائیل میرے پاس کھڑے ہوئے ہیں انھوں نے مجھے بتلایا ہے کہ حسین کو فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا پس اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہا وہ بہہ پڑیں۔