hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38525

.

ابن أبي شيبة

38525
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۵۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی عَاصِمٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : جَائَنَا قَتْلُ عُثْمَانَ وَأَنَا أُؤنِسُ مِنْ نَفْسِی شَبَابًا وَقُوَّۃً ، وَلَوْ قَتَلْتُ الْقِتَالَ ، فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ النَّاسَ حَتَّی إِذَا کُنْت بِالرَّبَذَۃِ إِذَا عَلِیٌّ بِہَا ، فَصَلَّی بِہِم الْعَصْرَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَسْنَدَ ظَہْرَہُ فِی مَسْجِدِہَا ، وَاسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ ، قَالَ : فَقَامَ إلَیْہِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ یُکَلِّمُہُ وَہُوَ یَبْکِی ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : تَکَلَّمْ وَلاَ تخِنَّ خَنِینَ الْجَارِیَۃِ ، قَالَ : أَمَرْتُک حِینَ حَصَرَ النَّاسُ ہَذَا الرَّجُلَ أَنْ تَأْتِیَ مَکَّۃَ فَتُقِیمَ بِہَا فَعَصَیْتنِی ، ثُمَّ أَمَرْتُک حِینَ قُتِلَ أَنْ تَلْزَمَ بَیْتَکَ حَتَّی تَرْجِعَ إِلَی الْعَرَبِ غَوَارِبُ أَحْلاَمِہَا ، فَلَوْ کُنْت فِی جُحْرِ ضَبٍّ لَضَرَبُوا إلَیْک آبَاطَ الإِبِلِ حَتَّی یَسْتَخْرِجُوک مِنْ جُحْرِکَ فَعَصَیْتنِی ، وَأَنَا أُنْشِدُک بِاللہِ أَنْ تَأْتِیَ الْعِرَاقَ فَتُقْتَلَ بِحَالِ مَضْیَعَۃٍ ، قَالَ : فَقَالَ : عَلِیٌّ : أَمَّا قَوْلُک : آتِی مَکَّۃَ ، فَلَمْ أَکُنْ بِالرَّجُلِ الَّذِی تُسْتَحَلُّ لِی مَکَّۃُ ، وَأَمَّا قَوْلُک : قَتَلَ النَّاسُ عُثْمَانَ ، فَمَا ذَنْبِی إِنْ کَانَ النَّاسُ قَتَلُوہُ ، وَأَمَّا قَوْلُک : آتِی الْعِرَاقَ ، فَأَکُون کَالضَّبُعِ تَسْتَمِعُ اللَّدْمِ۔
(٣٨٥٢٦) حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آئی اور میں اپنے آپ میں جوانی اور قوت کو پہچان رہا تھا اگر میں لڑائی کرتا میں نکلا لوگوں کے ساتھ حاضر تھا جب ہم مقام ربذہ پر پہنچے وہاں پر حضرت علی موجود تھے انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب سلام پھیرا لوگوں کی طرف منہ کر کے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے حضرت حسن بن علی کھڑے ان سے روتے ہوئے بات کرنے لگے انھوں نے فرمایا بات کرو اور لڑکی کے رونے کی طرح نہ رو۔ حضرت حسن نے فرمایا میں نے آپ سے کہا تھا جب لوگوں نے اس آدمی کا محاصرہ کیا تھا کہ آپ مکہ جا کر وہاں اقامت اختیار کریں آپ نے میری بات نہ مانی پھر جب انھیں شہید کیا گیا میں نے آپ سے کہا تھا اپنے گھر میں رہیں۔ یہاں تک عرب کی عقل مندی واپس آجائے پس اگر آپ گوہ کی بل میں ہوئے تو وہ آپ کو اونٹ کے پہلوں مارتے یہاں تک آپ کو اس بل سے نکالتے آپ نے میری بات نہ مانی اور میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ عراق نہ جائیں کہیں بےتوجہی کی حالت میں آپ کو قتل کردیا جائے راوی نے فرمایا حضرت علی نے فرمایا باقی رہی تمہاری بات کہ میں مکہ جاتا تو میں اس آدمی کے پاس نہیں گیا جو میرے لیے مکہ کو قتال کے لیے حلال کرتا اور تیری یہ بات کہ لوگوں نے عثمان کو شہید کردیا تو میرا کیا گناہ ہے اگر لوگوں نے ان کو قتل کردیا ہے اور رہی تمہاری یہ بات کہ میں عراق نہ جاتا (مدینہ اگر رہتا تو) تو میں اس گوہ کی طرح ہوتا جو (بل میں رہ کر) آواز کو سنتی ہے۔