(۳۸۵۲۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ الصُّلْحُ بَیْنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَمُعَاوِیَۃَ أَرَادَ الْحَسَنُ الْخُرُوجَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ : مَا أَنْتَ بِاَلَّذِی تَذْہَبُ حَتَّی تَخْطُبَ النَّاسَ ، قَالَ : قَالَ الشَّعْبِیُّ : فَسَمِعْتہ عَلَی الْمِنْبَرِ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : أما بعد فَإِنَّ أَکْیَسَ الْکَیْسِ التُّقَی ، وَإِنَّ أَعْجَزَ الْعَجْزِ الْفُجُورُ ، وَإِنَّ ہَذَا الأَمْرَ الَّذِی اخْتَلَفْتُ أَنَا فِیہِ وَمُعَاوِیَۃُ حَقٌّ کَانَ لِی ، فَتَرَکْتُہُ لِمُعَاوِیَۃَ ، أَوْ حَقٌّ کَانَ لامْرِیئٍ أَحَقَّ بِہِ مِنِّی ، وَإِنَّمَا فَعَلْت ہَذَا لِحَقْنِ دِمَائِکُمْ {وَإِنْ أَدْرِی لَعَلَّہُ فِتْنَۃٌ لَکُمْ وَمَتَاعٌ إِلَی حِین} ثُمَّ نَزَلَ۔
(٣٨٥٢٧) حضرت شعبی سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت حسن بن علی اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح ہوئی حضرت حسن نے مدینہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا مجاہد نے شعبی سے نقل کیا شعبی نے فرمایا میں نے ان سے منبر پر سنا کہ انھوں نے اللہ کی تعریف کی اور اس کی ثناء بیان کی پھر فرمایا یقیناً سب سے عقلمندی کی بات تقوٰی ہے اور سب سے عجز کی بات فسق و فجور ہے اور یہ امر (خلافت) جس میں میرے اور معاویہ کے درمیان اختلاف ہوا یہ میرا حق تھا میں نے معاویہ کے لیے چھوڑ دیا یا یوں فرمایا یہ میرا حق تھا جس کے معاویہ مجھ سے زیادہ حق دار ہیں اور میں نے یہ تمہارے خونوں کی حفاظت کے لیے ایسا کیا ہے اور میں نہیں جانتا ہوسکتا ہے تمہارے لیے آزمائش ہو اور مقررہ مدت تک نفع ہو پھر نیچے اتر آئے۔