(۳۸۵۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ أَبِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِین أَتَی حُنَیْنًا مَرَّ بِشَجَرَۃٍ یُعَلِّقُ الْمُشْرِکُونَ بِہَا أَسْلِحَتَہُمْ یُقَالُ لَہَ : ذَاتُ أَنْوَاطٍ ، فَقَالُوا : اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَذَا کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَی لِمُوسَی : {اجْعَلْ لَنَا إلَہًا کَمَا لَہُمْ آلِہَۃً} ، لَتَرْکَبُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ۔ (احمد ۲۱۸۔ طیالسی ۱۳۴۶)
(٣٨٥٣٠) حضرت ابو واقد اللیثی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین تشریف لائے تو ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کے ساتھ مشرکین اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے جسے ذات انواط کہا جاتا تھا (انواط نوط کی جمع ہے حاجت معلقہ کو کہتے ہیں یہ وہ درخت تھا جس کے ساتھ مشرکین اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے اور اس کا گرد ٹھہرتے تھے) صحابہ اکرام نے عرض کیا ہمارے لیے ذات انواط بنادیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ایسے ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا۔ ہمارے لیے بھی معبود بنادیں جیسا کہ ان کے لیے معبود ہے یقیناً تم اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں پر چلوگے۔