(۳۸۵۵۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ مُحَارِبٍ یُقَالُ لَہُ عَمْرُو بْنُ صُلَیعٍ إِلَی حُذَیْفَۃَ ، فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، حَدِّثْنَا مَا رَأَیْت وَشَہِدْت ؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : یَا عَمْرُو بْنَ صُلَیعٍ ، أَرَأَیْت مُحَارِبَ ؟ أَمِنْ مُضَرَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ مُضَرَ لاَ تَزَالُ تَقْتُلُ کُلَّ مُؤْمِنٍ وَتَفْتِنُہُ ، أَوْ یَضْرِبُہُمَ اللَّہُ وَالْمَلاَئِکَۃُ وَالْمُؤْمِنُونَ حَتَّی لاَ یَمْنَعُوا بَطْنَ تَلْعَۃٍ ، أَرَأَیْت مُحَارِبَ ؟ أَمِنْ قَیْسَ عَیْلاَنَ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَإِذَا رَأَیْت عَیْلاَنَ قَدْ نَزَلَتْ بِالشَّامِ فَخُذْ حِذْرَک۔ (طیالسی ۴۲۰۔ احمد ۳۹۰)
(٣٨٥٥٥) ابو الطفیل سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو محارب میں سے ایک صاحب جن کو عمرو بن صلیع کہا جاتا تھا حضرت حذیفہ کے پاس آئے انھوں نے حضرت حذیفہ سے عرض کیا اے ابو عبداللہ ہم سے وہ بیان کیجیے جو آپ نے دیکھا اور مشاہدہ کیا حضرت حذیفہ نے فرمایا اے عمرو بن صلیع محارب کے بارے میں مجھے بتلاؤ کیا وہ مضر میں سے ہے اس نے کہا جی ہاں تو حضرت حذیفہ نے فرمایا بلاشبہ مضر مسلسل ہر مومن کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کو فتنے میں ڈالیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے اور مومنین ان کو ماریں گے یہاں تک کہ وہ ہر جگہ کثرت سے ہونے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکیں گے محارب کے بارے میں بتلاؤ کیا وہ قیس عیلان سے ہیں انھوں نے کہا جی ہاں ارشاد فرمایا جب تم قبیلہ عیلان کو دیکھو جب وہ شام میں آگئے ہیں تو اپنا بچاؤ کرنا۔