(۳۸۵۵۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ: ادْنُوا یَا مَعْشَرَ مُضَرَ ، فَوَاللہِ لاَ تَزَالُونَ بِکُلِّ مُؤْمِنٍ تَفْتِنُونَہُ ، وَتَقْتُلُونَہُ حَتَّی یَضْرِبَکُمُ اللَّہُ وَمَلاَئِکَتُہُ وَالْمُؤْمِنُونَ ، حَتَّی لاَ تَمْنَعُوا بَطْنَ تَلْعَۃٍ ، قَالُوا : فَلِمَ تُدْنِینَا وَنَحْنُ کَذَلِکَ ، قَالَ : إِنَّ مِنْکُمْ سَیِّدَ وَلَدِ آدَمَ ، وَإِنَّ مِنْکُمْ سَوَابِقَ کَسَوَابِقِ الْخَیْلِ۔
(٣٨٥٥٦) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا اے مضر کی جماعت قریب ہوجاؤ اللہ کی قسم تم ہر مومن کو قتل کرو گے اور ان کو فتنے میں ڈالو گے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور مومنین تمہیں ماریں گے یہاں تک کہ تم ہر جگہ کثرت سے رہنے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکو گے ان کے اصحاب نے عرض کیا جب ہم اس حالت پر ہوں گے تو کیوں ہم ایسا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ! یقیناً تم میں سے ایک سردار ہوگا اور تم میں کچھ آگے نکلنے والے ہوں گے گھوڑوں میں سے آگے نکلنے والوں کی طرح۔