(۳۸۶۴۰) حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِیرَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ : لأَنْ أَحْلِفَ عَشْرًا ، أَنَّ ابْنَ صَیَّادٍ ہُوَ الدَّجَّالُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَۃً ، إِنَّہُ لَیْسَ بِہِ ، وَذَلِکَ لِشَیْئٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أُمِّ ابْنِ صَیَّادٍ ، فَقَالَ : سَلْہَا کَمْ حَمَلَتْ بِہِ ، فَقَالَتْ : حَمَلْت بِہِ اثْنَیْ عَشَرَ شَہْرًا فَأَتَیْتہ فَأَخْبَرْتہ ، فَقَالَ : سَلْہَا عَنْ صَبِیحَتِہِ حَیْثُ وَقَعَ ، قَالَتْ صَاحَ صِیَاحَ صَبِیِّ ابْنِ شَہْرَیْنِ ، قَالَ : أَوَ قَالَ لَہُ : رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی قَدْ خَبَّأْت لَکَ خَبِیئًا ، فَقَالَ : خَبَّأْت لِی عَظْمَ شَاۃٍ عَفْرَائَ، وَأَرَادَ أَنْ یَقُولَ : وَ(الدُّخَانَ) ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اخْسَأْ فَإِنَّک لَنْ تَسْبِقَ الْقَدَرَ۔
(احمد ۱۴۸۔ بزار ۳۹۸۳)
(٣٨٦٤٠) حضرت ابو ذر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں دس مرتبہ قسم کھاؤں کہ ابن صیاد وہی دجال ہے مجھے یہ زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں ایک مرتبہ قسم کھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلے میں کچھ سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ابن صیاد کی ماں کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ اس سے پوچھنا وہ اس سے کتنی دیر حاملہ رہی اس نے کہا میں اس سے بارہ مہینے حاملہ رہی راوی فرماتے ہیں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بتلایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس سے پوچھوا س کے چیخنے کے بارے میں تو اس کے ماں نے بتلایا یہ چیخا دو مہینے کی طرح اس ابن صیاد نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات دل میں چھپائی ہے اس نے کہا کہ آپ نے میرے لیے سفید بکری کی ہڈی کو چھپایا ہے اور یہ کہنا چاہتا تھا کہ دخان حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دور ہوجا تو تقدیر سے نہیں بڑھ سکتا۔