(۳۸۶۴۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُجَیٍّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا وَہُوَ نَائِمٌ ، فَذَکَرْنَا الدَّجَّالَ فَاسْتَیْقَظَ مُحْمَرًّا وَجْہُہُ ، فَقَالَ : غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَیْکُمْ عِنْدِی مِنَ الدَّجَّالِ : أَئِمَّۃٌ مُضِلُّونَ۔ (احمد ۹۸۔ ابویعلی ۴۶۲)
(٣٨٦٤١) حضرت علی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوئے ہوئے تھے ہم نے دجال کا تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے اس حال میں کہ چہرہ سرخ تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا دجال کے علاوہ لوگوں سے مجھے تمہارے بارے میں دجال سے زیادہ خوف ہے اور وہ گمراہ کرنے والے ائمہ ہیں۔