(۳۸۶۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَائَ ، قَالَتْ : أَتَیْتُ عَائِشَۃَ فَإِذَا النَّاسُ قِیَامٌ وَإِذَا ہِیَ تُصَلِّی ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ؟ فَأَشَارَتْ بِیَدِہَا نَحْوَ السَّمَائِ ، أَوْ قَالَتْ : سُبْحَانَ اللہِ ، فَقُلْتُ : آیَۃٌ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا أَنْ نَعَمْ ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُمْت حَتَّی تَجَلاَّنِی الْغَشْی ، وَجَعَلْت أَصُبُّ عَلَی رَأْسِی الْمَائَ ، قَالَتْ : فَحَمِدَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ وَقَالَ : مَا مِنْ شَیْئٍ لَمْ أَکُنْ رَأَیْتُہُ إِلاَّ قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مَقَامِی ہَذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ ، وَقَدْ أُوحِیَ إلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُونَ فِی الْقُبُورِ مِثْلَ ، أَوْ قَرِیبًا لاَ أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ ، قَالَتْ أَسْمَائُ : مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔ (مسلم ۶۲۷)
(٣٨٦٦٥) حضرت اسمائ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گئی تو لوگ قیام میں کھڑے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں میں نے عرض کیا لوگوں کی کیا حالت ہے انھوں نے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا یا انھوں نے سبحان اللہ کہا میں نے عرض کیا کیا نشانی ہے انھوں نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا قیام کیا (یہ نماز کسوف کا موقع تھا) میں کھڑی رہی یہاں تک کہ مجھے غشی ہوگئی میں اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع ہوگئی حضرت اسماء نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف کی اور جس کا اہل ہے وہ اس کی تعریف و ثنا کی اور ارشاد فرمایا کوئی بھی چیز جو میں نے نہیں دیکھی تھی وہ میں نے اپنے اس مقام میں دیکھی یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے تمہیں قبروں کے اندر فتنے میں مبتلا کیا جائے گا دجال کے فتنے کی مثل یا یوں فرمایا دجال کے فتنے کے قریب راوی فرماتے ہیں مثل یا قریب کے الفاظ میں سے میں نہیں جانتا کہ حضرت اسمائ نے کیا ارشاد فرمایا۔