(۳۸۶۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ ، عَنِ الْہَیْثَم بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : خَرَجْت وَافِدًا فِی زَمَانِ مُعَاوِیَۃَ فَإِذَا مَعَہُ عَلَی السَّرِیرِ رَجُلٌ أَحْمَرُ کَثِیرُ غُضُونِ الْوَجْہِ ، فَقَالَ لِی مُعَاوِیَۃُ : تَدْرِی مَنْ ہَذَا ؟ ہَذَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : فَقَالَ لِی عَبْدُ اللہِ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ : ہَلْ تَعْرِفُ أَرْضًا قِبَلَکُمْ کَثِیرَۃَ السِّبَاخِ یُقَالُ لَہَا کُوثی ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : مِنْہَا یَخْرُجُ الدَّجَّالُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : إِنَّ لِلأَشْرَارِ بَعْدَ الأَخْیَارِ عِشْرِینَ وَمِئَۃَ سَنَۃٍ ، لاَ یَدْرِی أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ مَتَی یَدْخُلُ أَوَّلُہَا۔
(٣٨٦٦٦) حضرت ہیثم بن اسود سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں وفد کی صورت میں حضرت معاویہ کے زمانے میں نکلا پس ان کے ساتھ تخت پر ایک آدمی تھے جو سرخ رنگ والے چہرے پر بہت زیاد ہ شکن والے تھے مجھ سے حضرت معاویہ نے فرمایا جانتے ہو یہ کون ہیں یہ عبداللہ بن عمرو ہیں راوی نے فرمایا مجھ سے حضرت عبداللہ نے کہا تم کہاں سے ہو میں نے عرض کیا اہل عراق سے ہوں انھوں نے فرمایا کیا تم اپنی جانب بہت زیادہ سباخ والی زمین پہچانتے ہو جسے کو ثی کہا جاتا ہے فرمایا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں انھوں نے فرمایا کہ وہیں سے دجال نکلے گا فرمایا کہ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا بلاشبہ شریر لوگوں کے لیے اچھے لوگوں کے بعد ایک سو بیس سال کا عرصہ ہوگا لوگوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کا پہلا (سال) کب داخل ہوگا۔