(۳۸۶۷۰) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الدَّجَّالُ یَخُوضُ الْبِحَارَ إِلَی رُکْبَتَیْہِ ، وَیَتَنَاوَلُ السَّحَابَ ، وَیَسْبِقُ الشَّمْسَ إِلَی مَغْرِبِہَا ، وَفِی جَبْہَتِہِ قَرْنٌ یَخْرُصُ مِنْہُ الْحَیَّاتُ ، وَقَدْ صُوِّرَ فِی جَسَدِہِ السِّلاَحُ کُلُّہُ ، حَتَّی ذَکَرَ السَّیْفَ وَالرُّمْحَ وَالدَّرَقَ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا الدَّرَقُ ، قَالَ : التُّرْسُ۔ (ابن کثیر ۱۴۲)
(٣٨٦٧٠) حضرت حسن سے روایت ہے انھوں نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا دجال سمندر میں گھسے گا گھٹنوں تک اور بادل کو پکڑ لے گا اور سورج سے پہلے اس کے غروب کی جگہ پہنچ جائے گا اور اس کی پیشانی میں سینگ ہوگا جس سے سانپ نکلیں گے اس کے جسم میں ہر طرح کے اسلحہ کی تصویریں بنائی گئیں ہیں یہاں تک کہ تلوار اور نیزہ اور ڈھال کا تذکرہ کیا فرمایا کہ میں نے کہا درق کیا چیز ہے انھوں نے فرمایا ڈھال۔