(۳۸۶۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَیَمْکُثُ فِی الأَرْضِ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا یَبْلُغُ مِنْہَا کُلَّ مَنْہَلٍ الْیَوْمُ مِنْہَا کَالْجُمُعَۃِ ، وَالْجُمُعَۃُ کَالشَّہْرِ وَالشَّہْرُ کَالسَّنَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : کَیْفَ أَنْتُمْ وَقَوْمٌ فِی ضِحٍ وَأَنْتُمْ فِی رِیحٍ ، وَہُمْ شِبَاعٌ وَأَنْتُمْ جِیَاعٌ ، وَہُمْ رِوَائٌ وَأَنْتُمْ ظِمَائٌ۔
(٣٨٦٧١) حضرت عبداللہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ دجال زمین میں چالیس دن ٹھہرے گا وہ زمین کے ہر گھاٹ میں پہنچے گا ان چالیس دنوں کا دن ہفتے کی طرح ہوگا اور ہفتہ مہینے کی طرح ہوگا اور مہینہ سال کی طرح ہوگا پھر ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب وہ لوگ روشنی میں ہوں گے اور تم ہوا میں ہو گے وہ سیر ہوں گے اور تم بھوکے ہوگے وہ سیراب ہوں گے اور تم پیاسے ہوگے۔