(۳۸۶۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَۃَ، عَنْ خَیْثَمَۃ، قَالَ: کَانَ عَبْدُ اللہِ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی الْمَسْجِدِ فَأَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ {کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ} فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : أَنْتُمَ الزَّرْعُ وَقَدْ دَنَا حَصَادُکُمْ ، ثُمَّ ذَکَرُوا الدَّجَّالَ فِی مَجْلِسِہِمْ ذَلِکَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : لَوَدِدْنَا أَنَّہُ قَدْ خَرَجَ حَتَّی نَرْمِیَہُ بِالْحِجَارَۃِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ: أَنْتُمْ تَقُولُونَ ، وَالَّذِی لاَ إلَہَ غَیْرُہُ ، لَوْ سَمِعْتُمْ بِہِ بِبَابِلَ لأَتَاہُ أَحَدُکُمْ وَہُوَ یَشْکُو إلَیْہِ الْحَفَا مِنَ السُّرْعَۃِ۔
(طبری ۲۶۔ حاکم ۴۶۱)
(٣٨٦٧٢) حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود مسجد میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے اس آیت پر پہنچے ” کزرع اخرج شطاہ “ حضرت عبداللہ نے فرمایا تم کھیتی ہو اور تمہارے کٹنے کا وقت قریب ہوچکا ہے پھر لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اپنی اس مجلس میں کچھ نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں وہ نکلے اور ہم اسے پتھروں سے ماریں حضرت عبداللہ نے فرمایا تم یہ کہتے ہو اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اگر تم اس کے بارے میں سنو کہ بابل میں ہے تو تم میں کوئی اس کے پاس آئے گا تو وہ اس کی طرف پاؤں گھسنے کی شکایت کرے گا تیزی سے اس تک پہنچنے کی وجہ سے۔