(۳۸۶۷۶) وَحَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِی ظَبْیَانَ ، أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ ، قَالَ: ذَکَرْنَا الدَّجَّالَ فَسَأَلْنَا عَلِیًّا مَتَی خُرُوجُہُ، قَالَ: لاَ یَخْفَی عَلَی مُؤْمِنٍ، عَیْنُہُ الْیُمْنَی مَطْمُوسَۃٌ، بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ یَتَہَجَّاہَا لَنَا عَلِیٌّ، قَالَ: فَقُلْنَا: وَمَتَی یَکُونُ ذَلِکَ، قَالَ: حِینَ یَفْخَرُ الْجَارُ عَلَی جَارِہِ ، وَیَأْکُلُ الشَّدِیدُ الضَّعِیفَ وَتُقْطَعُ الأَرْحَامُ ، وَیَخْتَلِفُونَ اخْتِلاَفَ أَصَابِعِی ہَؤُلاَئِ وَشَبَّکَہَا وَرَفَعَہَا ہَکَذَا ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : کَیْفَ تَأْمُرُنَا عِنْدَ ذَلِکَ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : لاَ أَبَا لَکَ ، إنَّک لَنْ تُدْرِکَ ذَلِکَ ، قَالَ : فَطَابَتْ أَنْفُسُنَا۔
(٣٨٦٧٦) حضرت قابوس بن ابی ظبیان سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ ہم نے دجال کا تذکرہ کیا ہم نے حضرت علی سے پوچھا اس کا خروج کب ہوگا انھوں نے فرمایا مومن پر مخفی نہیں ہے کہ اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے کافر کے حروف کے ہمارے سامنے ہجے فرمائے ہم نے عرض کیا یہ کب ہوگا فرمایا جب پڑوسی پڑوسی پر فخر کرے گا اور سخت کمزور کو کھاجائے گا اور شتے داریاں توڑی جائیں گے اور وہ آپس میں اختلاف کریں گے میری ان انگلیوں کے اختلاف کی طرح اور انھوں نے انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا اور اس طرح ان کو بلند کیا لوگوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا اے امیرالمؤمنین ! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں انھوں نے فرمایا تیرا باپ نہ رہے تم یہ زمانہ نہ پاؤ گے راوی نے فرمایا پھر ہم خوش ہوگئے۔