(۳۸۶۷۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : یُسَلَّطُ الدَّجَّالُ عَلَی رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَیَقْتُلُہُ ، ثُمَّ یُحْیِیہِ ، ثُمَّ یَقُولُ : أَلَسْت بِرَبِّکُمْ أَلاَ تَرَوْنَ أَنِّی أُحْیِی وَأُمِیت ، وَالرَّجُلُ یُنَادِی : یَا أَہْلَ الإِسْلاَم ، بَلْ عَدُوُّ اللہِ الْکَافِرُ الْخَبِیثُ ، إِنَّہُ وَاللہِ لاَ یُسَلَّطُ عَلَی أَحَدٍ بَعْدِی ، قَالُوا : وَکُنَّا نَمُرُّ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَلَی مُعَلِّمِ الْکِتَابِ فَیَقُولُ : یَا مُعَلِّمَ الْکِتَابِ ، اجْمَعْ لِی غِلْمَانَک فَیَجْمَعُہُمْ فَیَقُولُ : قُلْ لَہُمْ : فَلْیُنْصِتُوا ، أَیْ بَنِی أَخِی افْہَمُوا مَا أَقُولُ لَکُمْ ، أَمَا یُدْرِکْنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ فَإِنَّہُ شَابٌّ وَضِیئٌ أَحْمَرُ فَلْیَقْرَأْ عَلَیْہِ مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ السَّلاَمَ ، فَلاَ یَمُرُّ عَلَی مُعَلِّمِ کِتَابٍ إِلاَّ قَالَ لِغِلْمَانِہِ مِثْلَ ذَلِکَ۔
(٣٨٦٧٧) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ دجال کو مسلمانوں میں سے ایک آدمی پر مسلط کیا جائے گا وہ اسے قتل کردے گا پھر وہ اسے زندہ کرے گا اور کہے گا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں کیا تم دیکھتے نہیں ہو میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں اور وہ آدمی پکار رہا ہوگا اے اہل اسلام بلکہ یہ خبیث کافر اللہ کا دشمن ہے اور بلاشبہ اللہ کی قسم اسے میرے بعد کسی ایک پر بھی مسلط نہیں کیا جائے گا حضرت ابوہریرہ کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم حضرت ابوہریرہ کے ساتھ کتابت سکھانے والوں کے پاس سے گزرتے تھے تو حضرت ابوہریرہ فرماتے اے کتابت سکھانے والے میرے لیے اپنے لڑکوں کو جمع کرو وہ ان کو جمع کرتا تو فرماتے ان سے کہو کہ خاموش ہوجائیں اے بھتیجو ! وہ بات سمجھو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اگر تم میں سے کوئی عیسیٰ ابن مریم کو پالے تو وہ جوان روشن چہرے والے سرخ رنگ والے ہیں تو وہ ابوہریرہ کی جانب سے ان کو سلام پہنچا دے حضرت ابوہریرہ کسی بھی کتابت سکھانے والے کے پاس سے نہیں گزرتے تھے مگر اس کے بچوں سے یہی ارشاد فرماتے تھے۔