(۳۸۷۶۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : کُنْتُ رَجُلاً عَزِیزَ النَّفْسِ حَمِیَّ الأَنْفِ لاَ یَسْتَقِلُّ أَحَدٌ مِنِّی شَیْئًا ، سُلْطَانٌ وَلاَ غَیْرُہُ ، قَالَ : فَأَصْبَحْت أُمَرَائِی یُخَیِّرُونَنِی بَیْنَ أَنْ أَصْبِرَ لَہُمْ عَلَی قُبْحِ وَجْہِی وَرَغْمِ أَنْفِی وَبَیْنَ أَنْ آخُذَ سَیْفِی فَأَضْرِبَ بِہِ فَأَدْخُلَ النَّارَ ، فَاخْتَرْت أَنْ أَصْبِرَ عَلَی قُبْحِ وَجْہِی وَرَغْمِ أَنْفِی ، وَلاَ آخُذُ سَیْفِی فَأَضْرِبَ فَأَدْخُلَ النَّارَ۔
(٣٨٧٦٩) حضرت عقبہ بن عمرو سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں خوددار غیرت والا آدمی تھا کوئی میرے سامنے ٹھہر تا نہ تھا نہ بادشاہ اور نہ کوئی اور ارشاد فرمایا کہ میرے امیروں نے مجھے اختیار دیا تھا اس بات میں کہ میں ان پر صبر کروں اپنی ناپسندیدگی اور ذلت کے باوجود اور اس بات میں کہ میں اپنی تلوار لوں اور اس سے ناحق مار کر جہنم میں داخل ہوجاؤں میں نے اس بات کو لیا کہ اپنی ناپسندیدگی اور ذلت پر صبر کروں اور تلوار نہ لوں کہ اس سے (ناحق کسی کو مار کر) جہنم میں داخل ہوجاؤں۔