(۳۸۷۷۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ خَرَجَ مِنَ الْکُوفَۃِ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یُحْرِمَ ، فَقَالُوا لَہُ : أَوْصِنَا ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، اتَّہِمُوا الرَّأْیَ فَقَدْ رَأَیْتُنِی أَہِمُّ أَنْ أَضْرِبَ بِسَیْفِی فِی مَعْصِیَۃِ اللہِ وَمَعْصِیَۃِ رَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : أَوْصِنَا ، قَالَ : عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ فَإِنَّ اللَّہَ لَمْ یَکُنْ لِیَجْمَعَ أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ عَلَی ضَلاَلَۃٍ ، قَالَ : قَالُوا : أَوْصِنَا ، فَقَالَ : بِتَقْوَی اللہِ وَالصَّبْرِ حَتَّی یَسْتَرِیحَ بَرٌّ ، أَوْ یُسْتَرَاحُ مِنْ فَاجِرٍ۔
(٣٨٧٧٠) حضرت نعیم بن ابی ہند سے روایت ہے کہ حضرت ابو مسعود انصاری کوفہ سے نکلے کہ (غسل کی وجہ سے) ان کے سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے اور وہ احرام باندھنے کا ارادہ رکھتے تھے لوگوں نے ان سے عرض کیا ہمیں وصیت کریں انھوں نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! اپنی رائے کو متہم سمجھو میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں نے اپنی تلوار سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی میں مارنے کا عزم کیا تھا لوگوں نے عرض کیا ہمیں (اور) وصیت کریں انھوں نے فرمایا تم پر لازم ہے اللہ سے ڈرنا اور صبر یہاں تک کہ نیک آدمی راحت پالے یا فاجر سے راحت پالی جائے۔