(۳۸۸۱۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ حَکِیمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ لِی عُثْمَان وَہُوَ مَحْصُورٌ فِی الدَّارِ : مَا تَقُولُ فِیمَا أَشَارَ بِہِ عَلَیَّ الْمُغِیرَۃُ بْنُ الأَخْنَسِ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا أَشَارَ بِہِ عَلَیْک ، قَالَ : إِنَّ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ یُرِیدُونَ خَلْعِی ، فَإِنْ خُلِعْت تَرَکُونِی ، وَإِنْ لَمْ أُخْلَعْ قَتَلُونِی ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَیْت إِنْ خُلِعْت أَتُرَاک مُخَلَّدًا فِی الدُّنْیَا ، قَالََلا ، قُلْتُ : فَہَلْ یَمْلِکُونَ الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ ، قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : أَرَأَیْت إِنْ لَمْ تُخْلَعْ ، أَیَزِیدُونَ عَلَی قَتْلِکَ ، قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : أَرَأَیْت تَسُنُّ ہَذِہِ السُّنَّۃَ فِی الإِسْلاَم کُلَّمَا سَخِطَ قَوْمٌ عَلَی أَمِیرٍ خَلَعُوہُ ، وَلاَ تَخْلَعُ قَمِیصًا قَمَّصَکَہُ اللَّہُ۔ (ابن سعد ۶۶)
(٣٨٨١١) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے مجھ سے ارشاد فرمایا جبکہ وہ گھر کے اندر محصور تھے تم اس بارے میں کیا کہتے ہو جو مغیرہ بن الاخنس نے بتلایا ہے ابن عمر نے فرمایا میں نے عرض کیا اس نے آپ کو کیا بتلایا ہے انھوں نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھے خلافت سے معزول کرنا چاہتے ہیں اگر میں اس خلافت سے جدا ہوجاؤں تو وہ مجھے چھوڑیں گے اور اگر میں اس سے جدا نہ ہوں تو وہ مجھے قتل کردیں گے ابن عمر نے فرمایا کہ میں نے کہا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ جدا ہوجائیں گے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ دنیا میں ہمشہ رہیں گے آپ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا۔ کیا جنت اور جہنم کے مالک ہیں انھوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ خلافت سے جدا نہ ہوں تو یہ آپ کے قتل سے زیادہ کرسکتے ہیں انھوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں کہ آپ اسلام میں یہ طریقہ جاری کردیں گے کہ جب بھی لوگ امیر سے ناراض ہوں تو اسے (خلافت سے) جدا کردیں جو قمیص اللہ نے آپ کو پہنائی ہے وہ نہ اتاریں۔