(۳۸۸۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا لَیْلَی الْکِنْدِیَّ یَقُولُ : رَأَیْت عُثْمَانَ اطَّلَعَ عَلَی النَّاسِ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، لاَ تَقْتُلُونِی وَاسْتَعْتِبُونِی ، فَوَاللہِ لَئِنْ قَتَلْتُمُونِی لاَ تُقَاتِلُونَ جَمِیعًا أَبَدًا وَلاَ تُجَاہِدُونَ عَدُوًّا أَبَدًا ، وَلَتَخْتَلِفُنَّ حَتَّی تَصِیرُوا ہَکَذَا وَشَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ : {وَیَا قَوْمِ لاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ ہُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ} قَالَ : وَأَرْسَلَ إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلاَمٍ فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : الْکَفُّ الْکَفُّ ، فَإِنَّہُ أَبْلَغُ لَکَ فِی الْحُجَّۃِ ، فَدَخَلُوا عَلَیْہِ فَقَتَلُوہُ۔
(٣٨٨١٣) حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان کو میں نے دیکھا کہ محاصرے کے وقت انھوں نے لوگوں کی طرف جھانکا اور فرمایا اے لوگو ! مجھے قتل مت کرو اور مجھے راضی کرو اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے قتل کردیاتو تم کبھی بھی اکٹھے قتال نہ کرسکو گے اور کبھی بھی دشمن سے جہاد نہ کرسکو گے اور تمہارے درمیان پھوٹ پڑجائے گی یہاں تک کہ تم اس طرح ہوجاؤ گے اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور آیت تلاوت کی ترجمہ اور اے میری قوم ! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کررہے ہو وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہوچکی ہے اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے راوی نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن سلام کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا انھوں نے فرمایا ٹھہریں ٹھہریں بلاشبہ میں آپ کی دلیل تک زیادہ پہنچنے والا ہوں پس وہ لوگ حضرت عثمان کے پاس آئے اور ان کو شہید کردیا۔