(۳۸۸۲۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سِمَاکَ بْنَ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَنْظَلَۃَ بْنَ قَنَانَ أَبَا مُحَمَّدٍ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ ذُہْلٍ ، قَالَ : أَشْرَفَ عَلَیْنَا عُثْمَان مِنْ کُوَّۃٍ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : أَفِیکُمَ ابْنًا محدوج ، فَلَمْ یَکُونَا ثَمَّ ، کَانَا نَائِمَیْنِ ، فَأُوقِظَا فَجَائَا ، فَقَالَ لَہُمَا عُثْمَان : أُذَکِّرُکُمَا اللَّہَ ، أَلَسْتُمَا تَعْلَمَانِ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ: إنَّمَا رَبِیعَۃُ فَاجِرٌ ، أَوْ غَادِرٌ ، فَإِنِّی وَاللہِ لاَ أَجْعَلُ فَرَائِضَہُمْ وَفَرَائِضَ قَوْمٍ جَاؤُوا مِنْ مَسِیرَۃِ شَہْرٍ ، فَہَاجَرَ أَحَدُہُمْ عِنْدَ طَنَبِہِ ، ثُمَّ زِدْتہمْ فِی غَدَاۃٍ وَاحِدَۃٍ خَمْسَمِئَۃٍ خَمْسَمِئَۃٍ ، حَتَّی أَلْحَقْتہمْ بِہِمْ ، قَالاَ : بَلَی ، قَالَ : أُذَکِّرُکُمَا اللَّہَ أَلَسْتُمَا تَعْلَمَانِ أَنَّکُمَا أَتَیْتُمَانِی فَقُلْتُمَا : إِنَّ کِنْدَۃَ أَکَلَۃُ رَأْسٍ ، وَأَنَّ رَبِیعَۃَ ہُمَ الرَّأْسُ ، وَأَنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَیْسٍ قَدْ أَکَلَہُمْ فَنَزَعْتہ وَاسْتَعْمَلَتْکُمَا ، قَالاَ : بَلَی ، قَالَ : اللَّہُمَّ ، إِنْ کَانُوا کَفَرُوا مَعْرُوفِی وَبَدَّلُوا نِعْمَتِی فَلاَ تُرْضِہِمْ عَنْ إمَامٍ وَلاَ تُرْضِ الإِمَامَ عْنہُمْ۔
(٣٨٨٢١) حضرت حنظلہ بن قنان ابو محمد جو بنی عامر بن ذھل سے تھے ان سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ حضرت عثمان نے روشندان سے ہماری طرف جھانکا جبکہ وہ محصور تھے اور فرمایا کیا تم میں محدوج کے دو بیٹے ہں ن وہ وہاں نہ تھے سوئے ہوئے تھے ان کو جگایا گیا وہ دونوں آئے اور ان دونوں سے حضرت عثمان نے کہا میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم دونوں جانتے نہیں ہو کہ حضرت عمر نے کہا تھا کہ کہ ربیعہ فاجر ہیں یا فرمایا تھا دھوکے باز ہیں اور میں ایک مہینے کی مسافت سے آنے والی قوم والا عطیہ نہیں کرسکتا ہوں ان کے ہجرت کا مقام تو ان کے خیمے کی رسی کے پاس ہے (یعنی یہ قریب سے ہجرت کرنے والے ہیں) پھر میں نے ایک صبح میں ان کے عطیہ میں پانچ پانچ سو زیادہ کیا یہاں تک کہ میں نے ان کو ان کے ساتھ ملا دیا ان دونوں نے کہا کیوں نہیں (ایسا ہوا) حضرت عثمان نے فرمایا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم یہ نہیں جانتے کہ تم میرے پاس آئے تھے اور تم دونوں نے کہا تھا کہ کندہ اور ربیعہ ان پر اشعث بن قیس غالب تھا میں نے ان کو ان سے چھڑوایا اور تم دونوں کو ان پر عامل مقرر کیا انھوں نے کہا کیوں نہیں ایسا ہی ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا اے اللہ ! اگر وہ میری نیکی کی ناشکری کریں اور نعمت کو بدل دیں تو اے اللہ تو ان کو کسی امام سے راضی نہ کر اور نہ امام کو ان سے راضی کر۔