(۳۸۸۲۲) حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِیَۃَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ، عَنْ یَعْلَی بْنِ الْوَلِیدِ، عَنْ جُنْدُبٍ الْخَیْرِ، قَالَ: أَتَیْنَا حُذَیْفَۃَ حِینَ سَارَ الْمِصْرِیُّونَ إِلَی عُثْمَانَ فَقُلْنَا : إِنَّ ہَؤُلاَئِ قَدْ سَارُوا إِلَی ہَذَا الرَّجُلِ فَمَا تَقُولُ ، قَالَ: یَقْتُلُونَہُ وَاللہِ ، قَالَ: قُلْنَا: فأَیْنَ ہُوَ؟ قَالَ: فِی الْجَنَّۃِ وَاللہِ ، قَالَ : قُلْنَا : فَأَیْنَ قَتَلَتُہُ ؟ قَالَ : فِی النَّارِ وَاللہِ۔
(٣٨٨٢٢) جندب خیر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب مصری حضرت عثمان کی طرف جا چکے تھے۔ ہم نے عرض کیا ! یہ لوگ اس شخص (حضرت عثمان ) کی طرف گئے ہیں آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم یہ ان کو قتل کر ڈالیں گے ہم نے پھر عرض کیا کہ آخرت میں حضرت عثمان کا کیا معاملہ ہوگا تو انھوں نے فرمایا وہ جنت میں جائیں گے اللہ کی قسم۔ پھر ہم نے کہا کہ ان کے قاتل ؟ تو انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم وہ جہنم میں جائیں گے۔