(۳۸۸۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ حُمَیْدٍ أَبِی التَّیَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ ، قَالَ لَمَّا جَائَ قَتْلُ عُثْمَانَ ، قَالَ حُذَیْفَۃُ : الْیَوْمَ نَزَلَ النَّاسُ حَافَّۃَ الإِسْلاَم ، فَکَمْ مِنْ مَرْحَلَۃٍ قَدَ ارْتَحَلُوا عَنْہُ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ أَبِی الْہُذَیْلِ : وَاللہِ لَقَدْ جَارَ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمُ عَنِ الْقَصْدِ حَتَّی إِنَّ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ وُعُورَۃً ، مَا یَہْتَدُونَ لَہُ ، وَمَا یَعْرِفُونَہُ۔
(٣٨٨٢٣) عبداللہ بن ابی ہذیل سے منقول ہے کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آئی تو حضرت حذیفہ نے فرمایا آج لوگ اسلام کے کنارے پر اتر آئے ۔ پس کتنے مرحلے ہیں جو اس قتل سے انھوں نے عبور کرلیے۔ ابن ابی ہذیل نے فرمایا اللہ کی قسم یہ لوگ راہ اعتدال سے منحرف ہوگئے یہاں تک کہ ان کے اور ان کے درمیان ایسی پیچیدگی ہے کہ نہ تو اس کی ہدایت پاسکیں گے اور نہ ہی یہ اس کو جان پائیں گے۔