(۳۸۸۲۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی حُصَیْنٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِی سُرِّیَّۃُ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَتْ : جَائَ عَلِیٌّ یَعُودُ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَعِنْدَہُ الْقَوْمُ ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : أَنْصِتُوا وَاسْکُتُوا ، فَوَاللہِ لاَ تَسْأَلُونِی الْیَوْمَ شَیْئًا إِلاَّ أَخْبَرْتُکُمْ بِہِ ، فَقَالَ لَہُ زَیْدٌ : أَنْشُدُک اللَّہَ ، أَنْتَ قَتَلْت عُثْمَانَ ، فَأَطْرَقَ سَاعَۃً ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِی فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَأَ النَّسَمَۃَ ، مَا قَتَلْتہ وَلاَ أَمَرْت بِقَتْلِہِ ، وَمَا سَائَنِی۔
(حاکم ۱۰۶)
(٣٨٨٢٩) زید بن ارقم کی باندی کہتی ہیں کہ حضرت علی زید بن ارقم کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ ان کے ارد گرد لوگ بیٹھے تھے۔ حضرت علی نے لوگوں سے کہا تم خاموش رہو۔ اللہ کی قسم تم آج جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تم کو اس کی خبر دونگا حضرت زید بن ارقم نے فرمایا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ! بتاؤ تم ہی ہو جس نے عثمان کو قتل کیا ؟ پس حضرت علی نے کچھ دیر نظر نیچی کی پھر فرمایا اللہ کی قسم جس نے بیج کو پھاڑا اور جس نے ہوا چلائی، میں نے ان کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس کا حکم دیا اور نہ ہی مجھ پر اس کی کوئی برائی عائد ہوتی ہے۔