(۳۸۸۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ یَعْلَی ، قَالَ : کَانَ یَوْمَ أَرَادُوا قَتْلَ عُثْمَانَ أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَی عَلِیٍّ أَلاَ تَأْتِیَ ہَذَا الرَّجُلَ فَتَمْنَعُہُ ، فَإِنَّہُمْ لمْ یُبْرِمُوا أَمْرًا دُونَک ، فَقَالَ عَلِیٌّ : لَنَأْتِیَنَّہُمْ ، قَالَ : فَأَخَذَ ابْنُ الْحَنَفِیَّۃِ بِکَتِفَیْہِ فَاحْتَضَنَہُ ، فَقَالَ : یَا أَبَتِ ، أَیْنَ تَذْہَبُ وَاللہِ مَا یَزِیدُونَک إِلاَّ رَہْبَۃً ، فَأَرْسَلَ إلَیْہِمْ عَلِیٌّ بِعِمَامَتِہِ یَنْہَاہُمْ عَنْہُ۔
(٣٨٨٣٠) منذر بن یعلی سے منقول ہے کہ جس دن باغیوں نے حضرت عثمان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو مروان نے حضرت علی کو پیغام بھیجا کہ کیا آپ اس شخص (حضرت عثمان ) کے پاس جا کر ان کی حفاظت نہیں کریں گے ؟ کیونکہ وہ آپ کے علاوہ کسی کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔ حضرت علی نے فرمایا ہم ضرور جائیں گے ان کے پاس۔ پس ابن حنفیہ نے ا ن کے کندھے کو پکڑا اور اس کام کی ذمہ داری خود اٹھانے کا ارادہ کیا۔ اور عرض کیا اے میرے اباجان آپ کہاں جارہے ہیں اللہ کی قسم وہ لوگ آپ کے خوف میں ہی اضافہ کریں گے پھر حضرت علی نے باغیوں کی طرف اپنا عمامہ بھیجا اور باغیوں کو حضرت عثمان کو ضرر پہنچانے سے رکنے کا کہا۔