(۳۸۸۳۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا حُصِرَ عُثْمَان أَتَی عَلِیٌّ طَلْحَۃَ وَہُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی وَسَائِدَ فِی بَیْتِہِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُک اللَّہَ ، لَمَا رَدَدْت النَّاسَ عَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَإِنَّہُ مَقْتُولٌ ، فَقَالَ طَلْحَۃُ : لاَ وَاللہِ حَتَّی تُعْطِیَ بَنُو أُمَیَّۃَ الْحَقَّ مِنْ أَنْفُسِہَا۔
(٣٨٨٣٢) حکیم بن جابر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا محاصرہ کیا گیا تو حضرت علی ، حضرت طلحہ کے پاس تشریف لائے وہ اپنے گھر میں تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ حضرت عیت نے فرمایا میں تم کو قسم دیتا ہوں آپ نے لوگوں (باغیوں) کو امیر المومنین سے نہیں روکا کیونکہ ان کو قتل کردیا جائے گا۔ حضرت طلحہ نے فرمایا اللہ کی قسم نہیں روکوں گا یہاں تک کہ بنو امیہ اپنے پاس سے لوگوں کو حق نہ دیدیں۔