(۳۸۸۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : دَخَلْت مَعَ الْمِصْرِیِّینَ عَلَی عُثْمَانَ ، فَلَمَّا ضَرَبُوہُ خَرَجْتُ أَشْتَدُّ قَدْ مَلأْتُ فُرُوجِی عَدْوًا حَتَّی دَخَلْت الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِی نَحْوٍ مِنْ عَشَرَۃٍ عَلَیْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَائُ ، فَقَالَ : وَیْحَک مَا وَرَاک ، قَالَ : قُلْتُ قَدْ وَاللہِ فُرِغَ مِنَ الرَّجُلِ ، قَالَ : فَقَالَ : تَبًّا لَکُمْ آخِرَ الدَّہْرِ ، قَالَ : فَنَظَرْت فَإِذَا ہُوَ عَلِیٌّ۔ (سعید بن منصور ۲۹۳۹)
(٣٨٨٣١) ابو جعفر انصاری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والے مصریوں کے ساتھ میں بھی تھا۔ جب انھوں نے حضرت عثمان کو مارا تو میں گھبراہٹ کی حالت میں بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص مسجد کے ایک کونے میں بٹھا تھا اور اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔ اس نے کہا تمہاری ہلاکت ہو تمہارے پیچھے کیا معاملہ ہوا ؟ میں نے کہا اللہ کی قسم اس شخص (حضرت عثمان ) کا کام تمام ہوگیا۔ اس بیٹھے ہوئے شخص نے کہا ہلاکت ہو تمہارے لیے آخر زمانہ میں۔ میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی تھے۔