(۳۸۸۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الثَّوْرِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْلمُ الْمِنْقَرِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا وَقَعَ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ مَا کَانَ ، وَتَکَلَّمَ النَّاسُ فِی أَمْرِہِ ، أَتَیْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ ، فَقُلْتُ لہ : أَبَا الْمُنْذِرِ ، مَا الْمَخْرَجُ ، قَالَ : کِتَابُ اللہِ ، قَالَ : مَا اسْتَبَانَ لَکَ مِنْہُ فَاعْمَلْ بِہِ وَانْتَفِعْ بِہِ ، وَمَا اشْتَبَہَ عَلَیْک فَآمِنْ بِہِ وَکِلْہُ إِلَی عَالِمِہِ۔ (حاکم ۳۰۳)
(٣٨٨٣٦) عبدالرحمن بن ابزی سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا معاملہ ہوا تو لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کردیں۔ میں ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ابو منذر اب راہ نجات کیا ہے تو انھوں نے فرمایا کتاب اللہ، پھر فرمایا جو تم پر واضح ہوجائے اس پر عمل کرو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ اور جو تم پر مشتبہ ہو اس پر ایمان لے آؤ اور اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردو۔