(۳۸۸۳۷) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ الْوَلِیدِ، عَنْ جُزَیِّ بْنِ بُکَیْر الْعَبْسِیِّ، قَالَ: جَائَ حُذَیْفَۃُ إِلَی عُثْمَانَ لِیُوَدِّعَہُ ، أَوْ یُسَلِّمَ عَلَیْہِ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ: رُدُّوہُ، فَلَمَّا جَائَ، قَالَ: مَا بَلَغَنِی عَنْک بِظَہْرِ الْغَیْبِ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا أَبْغَضْتُک مُنْذُ أَحْبَبْتُک ، وَلاَ غَشَشْتُک مُنْذُ نَصَحْت لَکَ، قَالَ أَنْتَ أَصْدَقُ مِنْہُمْ وَأَبَرُّ ، انْطَلِقْ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ ، قَالَ : رُدُّوہُ ، قَالَ: مَا بَلَغَنِی عَنْک بِظَہْرِ الْغَیْبِ ، فَقَالَ : حُذَیْفَۃُ بِیَدِہِ ہَکَذَا ، مَا بَلَغَنِی عَنْک بِظَہْرِ الْغَیْبِ ، أَجَلْ وَاللہِ لَتُخْرَجَنَّ إخْرَاجَ الثَّوْرِ، ثُمَّ لَتُذْبَحَنَّ ذَبْحَ الْجَمَلِ ، قَالَ : فَأَخَذَہُ مِنْ ذَلِکَ أَفکلٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَی مُعَاوِیَۃَ فَجِیئَ بِہِ یُدْفَعُ ، قَالَ : ہَلْ تَدْرِی مَا قَالَ حُذَیْفَۃُ، قَالَ: وَاللہِ لَتُخْرَجَنَّ إخْرَاجَ الثَّوْرِ وَلَتُذْبَحَنَّ ذَبْحَ الْجَمَلِ ، فَقَالَ: ادفنہا ادفنہا۔ (دارقطنی ۴۹۰)
(٣٨٨٣٧) جزی بن بکیر عبسی سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ حضرت عثمان کے پاس آئے تاکہ ان کو الوداع کریں یا سلام کریں۔ جب وہاں سے پیٹھ پھیر کر واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا ان کو واپس لاؤ جب حضرت حذیفہ واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ہے ؟ حضرت حذیفہ نے فرمایا اللہ کی قسم جب سے میں نے بیعت کی ہے کبھی آپ سے بغض نہیں رکھا اور جب سے آپ کی خیر خواہی کی اس کے بعد نہ ہی میں نے اپنے دل میں کینہ رکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ ا ن سے زیادہ سچے اور نیک ہیں آپ جائیں پس جب وہ منہ پھیر کر جانے لگے پھر حضرت عثمان نے فرمایا وہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ؟ پھر فرمایا ہاں اللہ کی قسم تم ضرور بیل کی طرح نکال دیے جاؤ گے اور اونٹ کی طرح ذبح کیے جاؤ گے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر کپکپی طاری ہوگئی پھر انھوں نے معاویہ کو بلایا پس حضرت معاویہ کو لایا گیا تاکہ اس کا کچھ ازالہ کیا جاسکے۔ حضرت عثمان نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ حذیفہ نے کیا کہا ؟ انھوں نے کہا کہ تم کو بیل کی طرح نکالا جائے گا اور اونٹ کی طرح ذبح کیا جائے گا حضرت معاویہ نے فرمایا کہ آپ اس بات کو دفن کردیجیے۔