(۳۸۸۵۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ الآجر ، عَنْ شَیْخَیْنِ مِنْ بَنِی ثَعْلَبَۃَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِہِ ، قَالاَ : قَدِمْنَا الرَّبَذَۃَ فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ أَشْعَثَ ، فَقِیلَ ہَذَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ بِکَ ہَذَا الرَّجُلُ وَفَعَلَ ، فَہَلْ أَنْتَ نَاصِبٌ لَنَا رَایَۃً فَنَأْتِیک بِرِجَالٍ مَا شِئْت ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ الإِسْلاَم ، لاَ تَعْرِضُوا عَلَیَّ أَذَاکُمْ ، لاَ تُذِلُّوا السُّلْطَانَ ، فَإِنَّہُ مَنْ أَذَلَّ السُّلْطَانَ أَذَلَّہُ اللَّہُ ، وَاللہِ أَنْ لَوْ صَلَبَنِی عُثْمَان عَلَی أَطْوَلِ حَبْلٍ ، أَوْ أَطْوَلِ خَشَبَۃٍ لَسَمِعْت وَأَطَعْت وَصَبَرْت وَاحْتَسَبْت وَرَأَیْت ، أَنَّ ذَلِکَ خَیْرٌ لِی ، وَلَوْ سَیَّرَنِی مَا بَیْنَ الأُفُقِ إِلَی الأُفُقِ ، أَوْ بَیْنَ الْمَشْرِقِ إِلَی الْمَغْرِبِ ، لَسَمِعْت وَأَطَعْت وَصَبَرْت وَاحْتَسَبْت وَرَأَیْت ، أَنَّ ذَلِکَ خَیْرٌ لِی۔
(٣٨٨٥٧) آجر کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی سے منقول ہے وہ بنی ثعلبہ کے دو بوڑھوں سے روایت کرتا ہے یعنی ایک مرددوسری عورت دونوں کہتے ہیں کہ ہم ربذہ مقام کے پاس سے گزرے وہاں ہم نے ایک سفید داڑھی اور سفید سر والے پراگندہ حال شخص کو دیکھا پس کہا گیا کہ یہ صحابی رسول ہیں (ایک وفد آیا اس نے حضرت ابو ذر کی حالت بہتر دیکھ کر کہا) یہ سلوک اس شخص نے کیا ہے ؟ کیا آپ ہمارے لیے جھنڈا نصب کریں گے تاکہ آپ کے پاس لوگ آپ کی مدد کے لیے آئیں اگر آپ چاہیں تو انھوں نے کہا کہ اے لوگو ! اپنی اذیت کو میرے اوپر پیش نہ کرو اور نہ امرا کو رسوا کرو کیونکہ جو امیر کو رسوا کرے گا اللہ اسے بھی ذلیل کرے گا۔ اللہ کی قسم اگر حضرت عثمان مجھے سب سے اونچے پہاڑ یا لکڑی پر سولی چڑھانا چاہیں تو میں ان کے اس حکم کی بھی اطاعت کروں گا اور اس پر صبر کروں گا اور اللہ سے اجر کی امید رکھوں گا اور اس کو اپنے لیے باعث خیر جانوں گا۔ اگر وہ مجھے ایک افق سے دوسرے افق تک چلنے کا حکم دیں یا مشرق سے مغرب تک چلنے کا حکم دیں تو ضرور اطاعت کروں گا اور صبر کروں گا۔