(۳۸۸۷۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی رَبُّ ہَذَا الدَّارِ أَبُو ہِلاَلٍ ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیَّ یُحَدِّثُ أَنَّہُمْ کَانُوا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَمِعُوا غِنَائً فَاسْتَشْرَفُوا لَہُ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَمَعَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ ، فَأَتَاہُمْ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : ہَذَا فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ ، وَہُمَا یَتَغَنَّیَانِ وَیُجِیبُ أَحَدُہُمَا الآخَرَ وَہُوَ یَقُولُ :
لاَ یَزَالُ حواریٌّ تَلُوحُ عِظَامُہُ زَوَی الْحَرْبَ عَنْہُ أَنْ یُجَنَّ فَیُقْبَرَا
فَرَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ ارْکُسْہُمَا فِی الْفِتْنَۃِ رَکْسًا ، اللَّہُمَّ دُعَّہُمَا إِلَی النَّارِ دَعًّا۔ (بزار ۳۸۵۹۔ ابویعلی ۷۳۹۹)
(٣٨٨٧٥) ابو برزہ اسلمی روایت کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ایک سفر مں م آپ کے ساتھ تھے۔ پس انھوں نے گائے کی آواز سنی اور وہ اس آواز کی طرف متوجہ ہوگئے پس ایک شخص اٹھا اور آواز کی ٹوہ میں لگ گیا یہ حرمت شراب سے پہلے کی بات ہے۔ پس وہ ان کے پاس پہنچا اور واپس لوٹا اور بتایا کہ یہ فلاں اور فلاں ہیں دونوں گانا گا رہے ہیں اور ایک دوسرے کا جواب دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ انصاری کی ہڈیاں پڑی چمکتی رہیں گی اور شدید جنگ اس کو دفن کرنے سے مانع ہوگی کہ اس کی قبر بنائی جاسکے گی۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی اے اللہ ! ان دونوں کو کسی فتنے میں مبتلا کردے، اے اللہ ! ان کو آگ میں دھکیل دے۔