(۳۸۸۷۶) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ ، عَنِ الأَعْشَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن مُکْمِلٍ ، عَنْ أَزْہَرَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ أَقْبَلَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ حَاجًّا مِنَ الشَّامِ فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ ، فَأَتَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَقَالَ : یَا عُثْمَان ، أَلاَ أُخْبِرُک شَیْئًا سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَلَی ، قُلْتُ : فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : سَتَکُونُ عَلَیْکُمْ أمَرَائُ یَأْمُرُونَکُمْ بِمَا تَعْرِفُونَ وَیَعْمَلُونَ مَا تُنْکِرُونَ ، فَلَیْسَ لأُولَئِکَ عَلَیْکُمْ طَاعَۃٌ۔ (حاکم ۳۵۷)
(٣٨٨٧٦) ازہر بن عبداللہ سے منقول ہے کہ عبادہ بن صامت شام سے حج کرنے کے لیے تشریف لائے پھر مدینہ حاضر ہوئے اور حضرت عثمان کی خدمت میں آئے اور فرمایا اے عثمان ! کیا میں آپ کو ایسی بات کی خبر نہ دوں جو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو تو حضرت عثمان نے فرمایا کیوں نہیں حضرت عبادہ بن صامت نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے اوپر ایسے امراء آئیں گے جو تم کو ایسی باتوں کا حکم دیں گے جن کو تم جانتے ہو اور گورنر ایسے بنائیں گے جن کو تم نہیں جانتے (یعنی جیں ج تم نہیں سمجھتے ہو) ہوگے۔ پس ایسے امراء کی اطاعت تم پر واجب نہیں۔