(۳۸۸۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ الأَوْدِیِّ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِی بِنْتُ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ، أَنَّ أَبَاہَا ثَقُلَ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ ابْنَ زِیَادَۃ فَجَائَ یَعُودُہُ فَجَلَسَ فَعَرَفَ فِیہِ الْمَوْتَ ، فَقَالَ لَہُ : یَا مَعْقِلُ أَلاَ تُحَدِّثُنَا فَقَدْ کَانَ اللَّہُ یَنْفَعُنَا بِأَشْیَائَ نَسْمَعُہَا مِنْک ، فَقَالَ : إنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : لَیْسَ مِنْ وَالٍ یَلِی أُمَّۃً قَلَّتْ ، أَوْ کَثُرَتْ لَمْ یَعْدِلْ فِیہِمْ إِلاَّ کَبَّہُ اللَّہُ لِوَجْہِہِ فِی النَّارِ ، فَأَطْرَقَ الآخَرُ سَاعَۃً ، فَقَالَ : شَیْئٌ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَوْ مِنْ وَرَائِ وَرَائِ ، قَالَ : لاَ ، بَلْ شَیْئٌ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنِ اسْتَرْعَی رَعِیَّۃً فَلَمْ یُحِطْہُمْ بِنُصْحِہِ لَمْ یَجِدْ رِیحَ الْجَنَّۃِ ، وَرِیحُہَا یُوجَدُ مِنْ مَسِیرَۃِ مِئَۃِ عَامٍ ، قَالَ ابْنُ زِیَادٍ : أَلاَ کُنْت حَدَّثْتنِی بِہَذَا قَبْلَ الآنَ ، قَالَ : وَالآنَ لَوْلاَ مَا أَنَا عَلَیْہِ لَمْ أُحَدِّثْک بِہِ۔
(٣٨٨٧٧) بنت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ ان کے والد محتر م کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی تو یہ خبر ابن زیاد کو پہنچی پس ابن زیاد عیادت کے لیے حاضر خدمت ہوا پس ان کے قریب بیٹھا اور ان کے چہرے پر موت کے اثرات دیکھے پھر کہنے لگا اے معقل ! کیا آپ حدیث بیان نہیں کریں گے تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان احادیث سے جو آپ سے سنی ہیں بہت نفع پہنچایا ہے۔ پس حضرت معقل بن یسار نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” کہ کوئی والی حکومت نہیں جس کی رعیت میں میری کم یا زیادہ امت ہو اور وہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو منہ کے بل آگ میں پھینکے گا۔ وہ ایک گھڑی کے لیے مبہوت ہوگئے۔ پھر ابن زیاد بولا یہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے یا ان کے بعد آنے والوں سے سنا ہے معقل نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بھی سنا ہے ” کہ جس شخص کو رعایا کی باگ دوڑ دی جائے اور اس کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا جبکہ جنت کی خوشبو سو سال کے فاصلے سے آتی ہے۔ ابن زیاد نے کہا آپ نے یہ حدیث اس سے پہلے نہیں سنائی ؟ حضرت معقل نے فرمایا اگر میں مرض الوفات میں نہ ہوتا تو آپ کو اب بھی یہ حدیث نہ سناتا۔