(۳۸۸۹۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی الْیَقْظَانِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عُلَیمٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَہُ عَلَی سَطْحٍ وَمَعَہُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أَیَّامِ الطَّاعُونِ ، فَجَعَلَتِ الْجَنَائِز تَمُرُّ ، فَقَالَ : یَا طَاعُونُ خُذْنِی ، قَالَ : فَقَالَ عُلَیمٌ : أَلَمْ یَقُلْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمَ الْمَوْتَ ، فَإِنَّہُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِہِ ، وَلاَ یُرَدُّ فَیَسْتَعْتِبَہُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا ، إمْرَۃَ السُّفَہَائِ ، وَکَثْرَۃَ الشَّرْطِ ، وَبَیْعَ الْحُکْمِ ، وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ ، وَنَشْوًا یَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِیرَ ، یُقَدِّمُونَہُ لِیُغْنِیَہُمْ ، وَإِنْ کَانَ أَقَلَّہُمْ فِقْہًا۔ (احمد ۴۹۴۔ طبرانی ۶۱)
(٣٨٨٩١) زاذان علیم سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ چھت پر تھے اور ان کے ساتھ ایک صحابی بھی تھے۔ طاعون کے دنوں میں پس ہمارے پاس سے جنازے گزرنے شروع ہوئے تو اس نے کہا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ موت اعمال کے منقطع ہونے کا باعث ہے اور انسان کو لوٹایا نہیں جاتا کہ وہ اللہ کو راضی کرے۔ پس انھوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم چھ چیزوں کی وجہ سے موت کو جلدی طلب کرو، بیوقوفوں کی امارت کی وجہ سے، بادشاہوں کے خاص سپاہیوں کے زیادہ ہوجانے کی وجہ سے، فیصلوں کے بکنے کی وجہ سے اور خون ارزاں ہونے کی وجہ سے اور قرآن کو بانسریاں بنانے والے نو عمر لڑکوں کی وجہ سے جنھیں لوگ نماز میں اس لیے آگے کریں گے تاکہ وہ انھیں قرآن کو گانے کے انداز میں سنائے حالانکہ وہ اپنی فہم میں سب سے کم تر ہوگا۔