(۳۸۸۹۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قَبِیل ، عَنْ یُسَیْعٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ، أَنَّہُ قَالَ : ابْعَثُوا إِلَی أَمَلَۃٍ یَذِبُّونَ عَنْ فَسَادِ الأَرْضِ ، فَقَالَ لَہُ کَعْبُ الأَحْبَارِ : مَہْ لاَ تَفْعَلْ ، فَإِنَّ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللہِ الْمُنَزَّلِ : أَنَّ قَوْمًا یُقَالُ لَہُمُ الأَمَلَۃُ یَحْمِلُونَ بِأَیْدِیہِمْ سِیَاطًا کَأَنَّہَا أَذْنَابُ الْبَقَرِ ، لاَ یَرِیحُونَ رِیحَ الْجَنَّۃِ ، فَلاَ تَکُنْ أَنْتَ أَوَّلَ مَنْ یَبْعَثُ بِہِمْ ، قَالَ : فَفَعَلَ ، فَقُلْتُ أَنَا لِیَحْیَی : مَا الأَمَلَۃُ ؟ قَالَ : أَنْتُمْ تُسَمُّونَہُمْ بِالْعِرَاقِ الشُّرَطَ۔
(٣٨٨٩٩) نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ پولیس والوں کو بھیجو کہ وہ زمین کا فساد دور کریں تو کعب احبار نے فرمایا کہ ٹھہرو ایسا نہ کرو کیونکہ یہ کتاب اللہ میں ہے کہ ایک قوم ان کو املہ کہا جائے گا (پولیس وغیرہ) ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھیں گے۔ پس تم ان کو سب سے پہلے بھیجنے والے نہ بنو نعمان کہتے ہیں انھوں نے ایسا ہی کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا املہ کسے کہتے ہیں تو انھوں نے فرمایا تم عراق میں انھیں شرطی (پولیس والا) کہتے ہو۔