(۳۸۹۳۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ سَمِعْت حُمَیْدَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَصَمِّ یَذْکُرُ ، عَنْ أُمِّ رَاشِدٍ جَدَّتِہِ ، قَالَتْ: کُنْت عِنْدَ أُمِّ ہَانِئٍ فَأَتَاہَا عَلِی ، فَدَعَتْ لَہُ بِطَعَامٍ ، فَقَالَ : مَالِی لاَ أَرَی عِنْدَکُمْ بَرَکَۃً ، یَعْنِی الشَّاۃَ ، قَالَتْ: فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللہِ ، بَلَی وَاللہِ إِنَّ عِنْدَنَا لَبَرَکَۃً ، قَالَ : إنَّمَا أَعَنْیَ الشَّاۃَ ، قَالَتْ : وَنَزَلْتُ فَلَقِیتُ رَجُلَیْنِ فِی الدَّرَجَۃِ، فَسَمِعْتُ أَحَدہُمَا یَقُولُ لِصَاحِبِہِ: بَایَعَتْہُ أَیْدِینَا وَلَمْ تُبَایِعْہُ قُلُوبُنَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَنْ ہَذَانِ الرَّجُلاَنِ فَقَالُوا: طَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ ، قَالَتْ : فَإِنِّی قَدْ سَمِعْت أَحَدَہُمَا یَقُولُ لِصَاحِبِہِ : بَایَعَتْہُ أَیْدِینَا وَلَمْ تُبَایِعْہُ قُلُوبُنَا ، فَقَالَ عَلِیٌّ : {فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَا یَنْکُثُ عَلَی نَفْسِہِ وَمَنْ أَوْفَی بِمَا عَاہَدَ عَلَیْہُ اللَّہَ فَسَیُؤْتِیہِ أَجْرًا عَظِیمًا}۔
(٣٨٩٣١) ام راشد سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں ام ہانی کے پاس تھی حضرت علی ان کے پاس تشریف لائے پس ام ہانی نے ان کی کھانے پر دعوت کی حضرت علی نے فرمایا کہ کیا بات ہے مجھے تمہارے ہاں برکت (بکری) نظر نہیں آرہی۔ ام ہانی نے کہا سبحان اللہ کیوں نہیں ! اللہ کی قسم ہمارے ہاں برکت ہے حضرت علی نے فرمایا میری مراد بکری ہے۔ میں اتری تو سیڑھی میں دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی میں نے ان دونوں میں سے ایک کوسنا کہ وہ دوسرے کو کہہ رہا تھا ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے دلوں نے نہیں۔ ام راشد نے کہا یہ کون ہیں۔ پس لوگوں نے جواب دیا طلحہ اور زبیر میں نے سنا ان میں سے ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے قلوب نے نہیں۔ پس حضرت علی نے یہ آیت پڑھی { فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَا یَنْکُثُ عَلَی نَفْسِہِ وَمَنْ أَوْفَی بِمَا عَاہَدَ عَلَیْہُ اللَّہَ فَسَیُؤْتِیہِ أَجْرًا عَظِیمًا }۔ (جو عہد شکنی کرے گا اس کا بوجھ اسی پر ہوگا جو اللہ سے کیا عہد پورا کرے گا اللہ اس کو اجر عظیم دے گا) ۔