(۳۸۹۳۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ ، قَالَ : ضُرِبَ فُسْطَاطٌ بَیْنَ الْعَسْکَرَیْنِ یَوْمَ الْجَمَلِ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ، فَکَانَ عَلِیٌّ وَالزُّبَیْرُ وَطَلْحَۃُ یَأْتُونَہُ ، فَیَذْکُرُونَ فِیہِ مَا شَائَ اللَّہُ ، حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمُ الثَّالِثِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ رَفَعَ عَلِیٌّ جَانِبَ الْفُسْطَاطِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْقِتَالِ ، فَمَشَی بَعْضُنَا إِلَی بَعْضٍ ، وَشَجَرْنَا بِالرِّمَاحِ حَتَّی لَوْ شَائَ الرَّجُلُ أَنْ یَمْشِیَ عَلَیْہَا لَمَشَی ، ثُمَّ أَخَذَتْنَا السُّیُوفُ فَمَا شَبَہَتْہَا إِلاَّ دَارُ الْوَلِیدِ۔
(٣٨٩٣٢) عبد خیر سے روایت ہے جنگ جمل کے دوران تین دن تک دونوں لشکروں کے درمیان ایک خیمہ گاڑھا گیا۔ حضرت علی ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر (رض) عنھم وہاں تشریف لاتے اور اس بارے میں باتیں کرتے جو اللہ چاہتا حتیٰ کہ جب تیسرا دن ہوا تو دوپہر کے بعد حضرت علی نے خمہں کی ایک جانب اٹھائی اور قتال کا حکم دیا۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کی جانب چلنا شروع کیا ایک دوسرے کی طرف نیزے چلانے شروع کیے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص ان نیزوں کے اوپر چلنا چاہتا تو چل سکتا تھا پھر ہم نے تلواریں اٹھائیں اور ان کو میں تشبیہ نہیں دیتا مگر ولید کے گھر کے ساتھ۔